بنگلورو،15؍دسمبر(ایس او نیوز)ایک دورمیں مفکرین اورداشنوروں کا مرکزرہی ریاستی قانون سازکونسل اب پونجی پتیوں کاچوپال بن گئی ہے۔یہ بات ریاستی وزیربرائے دیہی ترقیات وپنچایت راج کے ایس ایشورپانے کہی۔
بروزمنگل بیلگاوی کے سورناسودھامیں اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہاکہ مقامی بلدی اداروں کی طرف سے ریاستی قانون سازکونسل کے لیے ہوئے الیکشن میں نوٹ کی ریل پیل رہی ہے،سننے میں آیاہے کہ ایک ووٹ کی قیمت ایک لاکھ روپے طے کی گئی تھی،ووٹ کے لیے نوٹ تقسیم کرنے کے معاملہ میں تمام سیاسی پارٹیاں ملوث ہیں۔اسی پس منظرپرردعمل ظاہرکرتے ہوئے میں نے کہاتھاکہ اس قسم کاقانون سازکونسل چاہئے؟جس کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے لاکھوں روپے لٹائے جاتے ہوں۔
انہوں نے تمام پارٹیوں پرفکرمندی ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ باوقارقانون سازکونسل کے انتخابات میں ووٹ کے لیے پیسوں کوپانی کی طرح بہایاجارہاہے،اس بارے میں تمام پارٹیوں کواحتساب کرنے کی ضرورت ہے۔لجس لیٹوکونسل کے الیکشن میں امیدوارجس طرح پیسہ خرچ کررہے ہیں،ان پیسوں کودیکھ عام لوگ یہ کہنے پرمجبورہوگئے ہیں کہ الیکشن کمیشن زندہ ہے یانہیں؟۔اس سے پہلے کونسل میں ایساماحول نہیں تھا،قانون سازکونسل داناؤں اور دانشوروں کا مرکزہواکرتی تھی مگراب مالداروں کاٹھکانہ بن گئی ہے۔بیلگاوی بندکے لیے ایم ای ایس کی جانب سے دی گئی بندکال پر برہمی ظاہرکرتے ہوئے اشیورپانے کہاکہ ایم ای ایس والوں کوکرنے کے لیے کچھ کام نہیں ہے اس لیے اس قسم کی بندکال کی آوازدے رہے ہیں۔اپنے آپ کوزندہ ثابت کرنے کے لیے وہاں یہاں احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کوتکلیف دینے کاکام کررہے ہیں۔حکومت ایم ای ایس پرکوئی توجہ دینے والی نہیں ہے۔